جب ہم پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قائم شدہ دینی مدارس کی صورت حال پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہاں پر دینی مدارس کو عوامی حلقوں میں وہ مرکزی اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی بھی مرکزی سطح کے ادارے کو مرکزی اہمیت نہ ملے تو عوام پراس کی گرفت ڈھیلی پڑھ جاتی ہے اور لوگوں میں اس کی مقبولیت کا گراف بھی نیچے آجاتا ہے۔ پھرلوگ ایسے اداروں کو معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں اور یا پھر انہیں آثار قدیمہ کی متبرک عمارتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ جو بلڈنگ بھی عصر حاضر کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دیتی وہ خود بخود آثار قدیمہ کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہم نے پاکستان میں دینی مدارس کی مشکلات کا صحیح اندازہ لگانے اور ان کی مشکلات کا درست حل ڈھونڈنے کی خاطر Book to Book Research Method کے ساتھ ساتھ Mobile Research Method کو بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرز تحقیق کو اختیار کرنے کے لئے ہم نے تعلیم و تدریس سے متعلق کتابوں اور مجلوں سمیت Face to face مختلف علمی شخصیات، طلاب کرام اور محققین سے سوالات کر کے ان کے افکار و نظریات، تجاویز اور خدشات کو بھی جمع کیا ہے۔ ہم نے اپنی طرف سے یہ کوشش کی ہے کہ ہماری یہ تحقیق کسی نہ کسی حدتک صاحبان علم و دانش کے لئے عملی طور پر مفیدثابت ہو ۔ اس ضمن میں ہم نے Source of Research کے طور پر جن افراد سے معلومات جمع کی ہیں انہیں مندرجہ ذیل پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:۱۔ ایسے دینی طالب علم جو خود تو پاکستان کے کسی دینی مدرسے میں نہیں پڑھے لیکن ایران و عراق کے دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں اور ان کا ہر روز پاکستان سے پڑھ کر آنے والے طالبعلموں سے واسطہ پڑھتاہے۔۲۔ ایسے طالب علم جو پاکستانی دینی مدرسوں میں بھی زیر تعلیم رہے اوراب جامعۃ الازہر، ایران یا عراق میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ۳۔ ایسے طالب علم جو پاکستانی مدارس میں کچھ عرصے کے لئے بطور مدرّس اپنی خدمات انجام دےچکے ہیں۔ ۴۔ ایسے طالب علم جو بیرون ملک زیرِ تعلیم ہیں لیکن پاکستان میں بعض مدارس کے نظام تعلیم سے بھی مربوط ہیں۔ ۵۔ ایسے حضرات جو بیرونی ممالک سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستانی مدارس میں مشغول تدریس ہیں یا پھر انہوں نے اپنے مدارس قائم کئے ہوئے ہیں۔ ہماری جمع کردہ معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے دینی مدارس کو کچھ خارجی اور کچھ داخلی مسائل درپیش ہیں ۔ سب سے پہلے ہم خارجی مسائل کا ذکر کرتے ہیں بعد میں داخلی مسائل اور آخر میں ان کا حل ذکر کریں گے۔ مدارس دینیہ کو لاحق خارجی مسائل: ۱۔ حکومتی پالیسی مدارس دینیہ کو خارجی طور پر جس سب سے بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ حکومتی پالیسی ہے۔ چونکہ حکومتیں مدارس کی طاقت سے آگاہ ہوتی ہیں لہذا حاکمان وقت مدارس کی علمی و افرادی قوت کا زور توڑنے کے لئے مذہبی شخصیات کو بعض اوقات بلیک میل کرتے ہیں، ان کے مالی و جنسی سیکنڈ لز سامنے لاتے ہیں، دینی مدارس کے طلاب کو دہشتگردانہ سرگرمیوں میں مشغول کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرتے ہیں اور عوام کے دلوں میں مدارس کا وقار گرانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ضیاء الحق نے جہاد کے نام پر ایک مخصوص مکتب فکر کے دینی مدارس کو استعمال کیا پھر ان ہی کے ذریعے مختلف دہشتگرد گروہوں کو منظم کیا اور بعد میں پرویز مشرف نے ضیاء الحق کے پالتو دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے بہانے مدارس پر یلغار کی۔ ان ساری کاروائیوں سے دینی مدرسے بدنام ہوئے اور لوگ دہشتگردی کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل سمجھنے لگے۔ حالانکہ نہ ہی تو ضیاء الحق کو جہاد اور اسلام سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ ہی پرویز مشرف کو اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت درکار تھی۔ دونوں نے اپنے اپنے حکومتی مفادات کے لئے دینی مدارس کے "دینی جذبے" سے سوء استفادہ کیا۔ ۲۔ میڈیا کا کردار دینی مدارس کے خلاف منفی ماحول کی تشکیل میں، میڈیا بھی حکومتوں کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ میڈیا پر چھائی ہوئی لابیاں حکومتی خفیہ اداروں کے اشاروں پر ایسے پروگرامز اور فیچرز تیار کر تی ہیں جن سے اصل حقائق چھپ جاتے ہیں اور دینی مدارس پر بدنامی کا دھبہ لگ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ابھی پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے تمام تر واقعات کا تانہ بانہ بالآخر جہادی گروپوں سے اور جہادی گروپوں کا تعلق دینی مدارس کے طلاب سے جوڑا جاتا ہے۔ ہمارے بھولے بھالے لوگ ان ساری باتوں کو سچ سمجھتے لگتےہیں حالانکہ میڈیا کو چاہئے کہ وہ عوام پر واضح کرے کہ سارے دینی مدارس کے طلاب ان دہشت گردانہ گروپوں کا حصہ نہیں ہیں اور جو بیچارے ان گروپوں کا حصہ بنے بھی ہیں وہ سی آئی اے کی سازشوں کے باعث بنے ہیں۔ یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیسے دہشت گردی کی کڑیاں دینی مدارس سے جوڑتا ہے اسی طرح سی آئی اے سے بھی جوڑے اور لوگوں کو امریکہ، ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے گٹھ جوڑسے آگاہ کرے۔ ۳۔ بعض علاقائی و مقامی با اثر شخصیات کا کردار بعض علاقوں میں جب دینی مدارس اپنی دینی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں تو اس علاقے میں موجود بعض بدعنوان عناصر کے مفادات کو زَک پہنچتی ہے اور لوگوں میں بدعات اور اخلاقی و سماجی برائیوں مثلاًرشوت، شراب خوری، سیاسی کرپشن، عقائد اسلامیہ میں تحریف وغیرہ کے خلاف شعور پھیلنے لگتا ہے اور لوگوں میں بیداری آنے لگتی ہے۔اگر کہیں پر مقامی با اثر شخصیات کے دامن پر بدعات یا اخلاقی و سماجی برائیوں کے دھبے ہوں تو یہ لوگ مدارس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ۴۔ عوامی رائے عامہ حکومت، میڈیا اور کرپٹ عناصر عوام کی سادہ لوحی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت سنی سنائی باتوں پر اپنی رائے قائم کر لیتی ہیں۔اس لئے وہ اکثر اوقات عوامی رائے عامہ کو مدارس کے خلاف اکسانے میں مصروف رہتے ہیں، جس سے عوام ایک تو مدارس کے بارے میں ہمدردانہ غور و فکر نہیں کرتے اور دوسرے حکومت یا بدعنوان عناصر کے خلاف مدارس کی پشت پناہی بھی نہیں کرتے۔ ۵۔ دینی مدارس میں باہمی رابطے کا فقدان دینی مدارس کے لئے ایک بڑی مشکل ان کے درمیان باہمی رابطے کا فقدان ہے۔ ہمارے ہاں دینی مدارس، دین اسلام کی ترجمانی کے بجائے فرقہ وارانہ تفرقہ وارانہ بنیادوں پر شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی اور بریلوی وغیرہ میں تقسیم ہیں ایک فرقے کا دینی مدرسہ دوسرے فرقے کے دینی مدرسے سے ایٹم بمب کا سا خطرہ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سازشی عناصر جب کسی ایک مدرسے کے خلاف کاروائی کا آغاز کرتے ہیں تو دیگر مدارس خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں یا پھر اپنی مخصوص تنگ نظری اور فرقہ وارنہ سوچ کی بنیاد پر دوسرے فرقے کے مدارس کے خلاف سازشی عناصرکی ممکنہ مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کا عملی نمونہ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں بارہا دیکھا ہے: مثلاً اگر دینی مدارس کا باہمی رابطہ مضبو ط ہوتا تو ضیاء الحق ایک مخصوص مکتب فکر کے دینی مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دینے میں کامیاب نہ ہوپاتا۔ چونکہ دینی مدارس کا باہمی رابطہ مضبوط نہیں ہوتااسی لئے وہ آپس میں عدم اعتماد کے بھی شکار رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے بجائے سیکولر عناصر اور کرپٹ حکمرانوں کے نعروں پر اعتماد کر کے ان کی سازشوں کےشکار ہوجاتے ہیں۔ ۶۔ وزارت تعلیم کی پالیسیاں پاکستانی وزارت تعلیم ہمیشہ سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ جو لوگ وزارت تعلیم میں بیٹھے ہوتے ہیں انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ دینی تعلیم سے کیا مراد ہے؟ یہ دینی نصاب کو تو عصرحاضر سے ہم آہنگ [اپ ڈیٹ] کرنا چاہتے ہیں لیکن خود دینی حوالے سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔ انہیں نہ ہی تو دین کی اہمیت اور دینی مدارس کے تعلیمی ڈھانچےکی کچھ خبر ہوتی ہے اور نہ ہی یہ دینی تعلیمی نصاب میں تغیر و تبدیلی کے صحیح مفہوم کو سمجھتے ہیں۔ چنانچہ یہ کچھ علماء کی ٹیمیں بناکر ان ہی کے مشوروں پر منصوبے بناتے رہتے ہیں اور بعد میں ان منصوبوں کو بھی ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ۷۔ ٹرسٹیز کی صورتحال کچھ جگہوں پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مدارس کو چلانے کے لئے ٹرسٹ بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ٹرسٹ ایسے افرادپرمشتمل ہوتے ہیں جن کا شعبہ تعلیم سے کسی طرح کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے افراد ٹرسٹ میں اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں اور مدیر مدرسہ کو اپنی پالیسوں کے تحت چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے مدرسے کے قیام کے مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے اور اسی طرح بعض مقامات پر جان بوجھ کرمحض فنانس اکٹھا کرنے کے لئے ہر طرح کے افراد کو ٹرسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ظاہر ہے اس طرح کے ٹرسٹ بنانے سے بڑی بڑی عمارتیں تو بن جاتی ہیں لیکن کوئی علمی و فکری پیش رفت نہیں ہو پاتی۔۸۔ عصر جدید کے تقاضے جو مدارس عصر جدید کے تقاضوں سے چشم پوشی کرتے ہیں ان کے طالب علم کسی بھی علمی حلقے میں خصوصاً کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے سامنے اپنے آپ کو دینی طالب علم بتانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔اس طرح کے احساس کمتری میں مبتلا افراد اپنی عملی زندگی میں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ افراد عموماً کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے خلاف کمر کس لیتے ہیں۔ ان کے مدارس میں جو بچہ بھی داخلہ لیتا ہے وہ جلد ہی محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کا علمی رشد اور ارتقاء رک گیا ہے۔ چنانچہ بہت سے داخلہ لینے والے طالب علم دینی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں یاپھر ایسے مدارس کا رخ کرتے ہیں جہاں پر دونوں طرح کی تعلیم دی جاتی ہو جبکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض طالب علم کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لے کر دینی تعلیم کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ احساس کمتری میں مبتلا افراد اگر مدارس میں اساتذہ کے مقام تک پہنچ جائیں تو اگروہ خود پرائمری، مڈل، میٹرک یا ایف اے وغیرہ ہوں تو کوشش کرتے ہیں کہ اِن کا طالب علم اُن سے سکول یاکالج کی تعلیم میں ایک آدھ کلاس آگے نہ نکل جائے۔ اسی طرح بعض مدارس میں آج بھی اخبار پڑھنے اور ٹیلی ویژن دیکھنے یا کسی دینی و ملی ریلی وغیرہ میں شرکت کرنے کو وقت کے زیاں کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ ۹۔علماء سوء اور نام نہاد مفکرین کا کرداربہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے چہروں پر دینداری کاماسک چڑھایاہواہوتاہے۔یہ صرف اور صرف اپنے نام و نمود اور رقم بٹورنےکے چکرمیں ہوتے ہیں۔ فتویِ بازی اور دین میں بدعات کو فروغ دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ اسی طرح بعض حضرات فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے ٹھگوں کی طرح اپنے نام کے ساتھ "ڈاکٹر"اور"پروفیسر"لگا کر بھی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہاں تک تو دینی مدارس کے خارجی مسائل کا ذکرتھا، آئیے اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے دینی مدارس کے داخلی مسائل کیا ہیں۔ ۱۔ تعلیمی نظام کی مشکلات مدارس میں مقدمات اور علوم اصلی تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن علوم عملی پر خاص توجہ
17 ستمبر 2010 - 19:30
News ID: 193660
اسلامی دنیا میں دینی مدارس کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ کسی اور ادارے کو حاصل نہیں۔ کسی بھی اسلامی ملک کے عوامی حلقوں میں دینی شعور جتنا زیادہ ہو مدارس کا اثر و رسوخ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ مدارس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات ایک دینی مدرسہ بیک وقت کئی ذیلی مدارس، مساجد، قرآن سنٹرز اور لائبریریوں نیز دینی و سماجی سرگرمیوں کی فعالیت کا مرکز ہوتا ہے۔